بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزہ کی حالت میں غیر ضروری بال اور ناخن کاٹنے کا حکم

سوال

کیا روزہ کی حالت میں غیر ضروری بال اور ناخن کاٹ سکتے ہے؟

جواب

روزہ کی حالت میں غیر ضروری (زیر ناف، بغل اور مونچھوں وغیرہ کے) بال اور ناخن کاٹنا جائز ہے، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ،یہ روزے کےمنافی نہیں اس لئے ا س سے روزہ فاسد یا مکروہ نہیں ہوتا۔

البحر الرائق میں ہے :

"الصوم في الشرع الامساك عن المفطرات الثلاث حقيقةّ او حكماّ في وقت مخصوص من شخص مخصوص مع النية."

(البحر الرائق، ج:2، ص:259، ط:سعيد)

فتاوی شامی میں ہے :

قوله: "و تنظيف بدنه " بنحو ازالة الشعر من ابطه ، ويجوز فيه الحلق و النتف اوليٰ."

( رد المختار ، ج:6، ص:406، ط:سعید )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309101133
تاریخ21-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں