بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معتکف کا بے وضو رہنا

سوال

 کیا اعتکاف کی حالت میں بے وضو رہ سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ معتکف کے لیے بغیر ضرورت شرعیہ مسجد سے نکلنا جائز نہیں۔ لہٰذا  اگر معتکف کا وضو ٹوٹ جائے تو صرف ان عبادات کے لیے  ہی وضوکر نے جا سکتا ہے جن عبادات میں وضو شرط ہے (مثلاً: نماز پڑھنے، قرآن کریم کو چھونے کے لیے، وغیرہ)،صرف با وضو رہنے کے لیے یا  جن عبادات میں وضو شرط نہیں(جیسے ذکر اذکار وغیرہ)  ان کے لیے معتکف کا وضو کرنے جانا جائز بھی نہیں، بلکہ اس صورت میں  بغیر وضو کے ہی مسجد میں ٹھہرا رہے  اور اگر وضو کرنا ہی ہو تو  مسجد کے احاطے میں وضو کرسکتے ہیں (اس طریقے پر کہ پانی مسجد میں نہ گرے، یعنی مسجد کی حدود میں بیسن وغیرہ پر)  اور عام طور پر مساجد میں معتکفین کے ہاتھ وغیرہ دھونے کے لیے نیز نفلی وضو کے لیے وضو کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"(قَالَ): وَلَايَنْبَغِي لِلْمُعْتَكِفِ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ الْمَسْجِدِ إلَّا لِجُمُعَةٍ أَوْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ أَمَّا الْخُرُوجُ لِلْبَوْلِ وَالْغَائِطِ فَلِحَدِيثِ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَايَخْرُجُ مِنْ مُعْتَكِفِهِ إلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ»؛ وَلِأَنَّ هَذِهِ الْحَاجَةِ مَعْلُومٌ وُقُوعُهَا فِي زَمَانِ الِاعْتِكَافِ، وَلَايُمْكِنُ قَضَاؤُهَا فِي الْمَسْجِدِ فَالْخُرُوجُ لِأَجْلِهَا صَارَ مُسْتَثْنًى بِطَرِيقِ الْعَادَةِ".

( بَابُ الِاعْتِكَافِ،3 / 117، ط: دار المعرفة)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309101114
تاریخ21-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں