یاداشت کا نہ ہونا نکاح پر اثرانداز نہیں ہوتا
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی شخص کی یادداشت کھو جائے اور وہ اپنا نکاح بھول جائے، نکاح کے گواہان کی موت واقع ہو جائے تو اس صورت میں کیا حکم ہو گا؟
جواب
شریعت ِمطہرہ میں جب دو شرعی گواہوں کی موجودگی میں جانبین سے ایجاب و قبول ہوجائے تو اس سے شرعاً نکاح منعقد ہوجاتا ہے،نکاح کے انعقاد کے بعد کسی عارض یعنی: یاداشت کے کھو جانے، یا گواہوں کے فوت ہو جانے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، نکاح برقرار رہتا ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)على الاصح."
(کتاب النکاح ،ج۳،ص۲۱،ط سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

