بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سوتیلی والدہ کو زکوۃ دینا

سوال

کیا سوتیلی والدہ کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں اگر سوتیلی والدہکےپاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت یا اس مالیت کا حوائج اصلیہ سے زائد کسی قسم کا ما ل  موجود نہیں ہے  اوروہ ہاشمی بھی نہیں ہےتو سوتیلی والدہ کو زکوۃ دینا جائز ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"و يجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب و إن كان صحيحا مكتسبا·"

( كتاب الزكاة، الباب السابع ۱/ ۱۸۹ ط:رشيدية)

"يجوز دفعها لزوجة أبيه وابنه وزوج ابنته تتارخانية."

(رد المحتار علی الدر المختار ، کتاب الزکاۃ 2/ 346 ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309101072
تاریخ21-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں