بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وتر ایک مرتبہ ادا کرنے کے بعد دوبارہ پڑھنا

سوال

وتر ادا ہوگئی لیکن پھر بھی لوگوں نے اس کا اعادہ کرلیا تو اس کی اعادے کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں جب ایک مرتبہ وتر ادا ہوگئی تودوبارہ وترکااعادہ کرنا  شرعاً زائد کے درجے میں ہے،کیونکہ ایک رات میں ایک ادا وتر کو دو دفعہ پڑھنا مشروع نہیں ہے۔

حاشیہ طحطاوی میں ہے:

"وإذا صلى الوتر قبل النوم ثم تهجد لا يعيد الوتر لقوله صلى الله عليه وسلم: "لا وتران في ليلة."

(باب الوتر واحکامه، ص:386، ط:دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309101044
تاریخ20-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں