بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پہلی صف سے کیا مراد ہے، امام کے دائیں بائیں جانب کھڑے ہونے میں کون سی جگہ افضل ہے؟

سوال

اگر مسجد ( جماعت خانہ )  میں جگہ کی تنگی کی وجہ سے امام کے برابر میں ایک فٹ چھوڑ کر صف بنائی جائے تو پہلی صف کون سی شمار ہوگی ؟ امام کے برابر والی یا اُس سے پیچھے والی ؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ امام کے دائیں جانب کھڑے ہونے اور بائیں جانب کھڑے ہونے میں کیا فرق ہے ؟ کون سی جگہ افضل ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ صفِ اول سے مراد وہ صف ہےجو  امام کے قریب ہو ، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں امام کے پیچھے ایک فٹ چھوڑ کر جو مقتدی کھڑے ہیں وہی پہلی صف شمار ہوگی ۔

نیز صف میں امام کے دائیں جانب کھڑا ہونے کا ثواب امام کے بائیں جانب کھڑے ہونے سے زیادہ ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ويؤخذ من تعريف الصف الأول بما هو خلف الإمام أي لا خلف مقتد آخر."

(كتاب الصلاة ، باب الإمام ، مطلب في الكلام علي الصف الأول،1/ 570، ط: سعيد)

البحرالرائق میں ہے:

"وروي في الأخبار أن الله تعالى إذا أنزل الرحمة على الجماعة ينزلها أولا على الإمام ثم تجاوز عنه إلى من بحذائه في الصف الأول ثم إلى الميامن، ثم إلى المياسر، ثم إلى الصف الثانى وروي عنه عليه السلام أنه قال يكتب للذي خلف الإمام بحذائه مائة صلاة وللذي في الجانب الأيمن خمسة وسبعون صلاة وللذي في الجانب الأيسر خمسون صلاة وللذي في سائر الصفوف خمسة و عشرون صلوة."

(باب الإمام،ص: 219،ط: رشيديه)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100968
تاریخ19-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں