بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بکرے کی نذر مان کر اس کی قیمت دینا

سوال

 میری والدہ نے منت مانی  تھی اگر ان کا بیٹا ٹھیک ہو گیا وہ ایک بکرا نیاز دیں گی تو ان کا بیٹا ٹھیک ہو گیا اللہ کے فضل سے، تو اب وہ کہتی ہیں کہ جتنے کا بکرہ ملتا ہے اتنی رقم میں کسی غریب کو تقسیم کر دوں تو ان کی منت ادا ہو جاۓ گی، وہ بکرا ذبح نہیں کرنا چاہتی، بلکہ اتنے پیسے کسی غریب کو دینا چاہتی ہیں ؟

جواب

صورت ِمسئولہ میں   بکرے کی نذر لازم ہونے کے بعد اس کی جگہ اس کی قیمت کسی مستحق  زکوٰۃ شخص کو دینے سے  بھی نذر پوری ہوجائے گی ۔

در مختار میں ہے :

"(نذر أن يتصدق بعشرة دراهم من الخبز فتصدق بغيره جاز إن ساوى العشرة) كتصدقه بثمنه."

(فتاوی شامی،کتاب الأیمان،ج:۳،ص:۷۴۱،سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100877
تاریخ18-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں