بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھر کے راس نہ آنے کی شرعی حیثیت

سوال

ہم نومبر میں ایک کرایے کے گھر میں شفٹ ہوئے ہیں جو کہ پچھلے چار پانچ سال سے بند پڑا تھا۔ یہاں آنے کے بعد میری صحت ڈاؤن ہونا شروع ہو گئی ہے۔ کیا ایسا ہے کہ ہمیں یہ گھر راس نہیں آیا یا ہمیں گھر تبدیل کر لینا چاہیے۔ براۓ مہربانی جلدی جواب کا منتظر ہوں۔ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگرآپ  کا اس گھر  میں دل نہیں لگ رہا اورطبیعت خراب ہورہی ہو تو اس جگہ کو تبدیل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، خصوصاً اگر اس جگہ رہنے میں وساوس و اوہام کی وجہ سے عقیدہ متاثر ہورہاہو تو بہتر ہے کہ شکوک و اوہام سے نجات اور ذہنی وقلبی سکون کے لیے اس جگہ کو چھوڑ دیا جائے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100761
تاریخ16-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں