بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف کی حالت میں ووٹ ڈالنے کے لیے مسجد سے نکلنے کا حکم

سوال

ووٹ دینے کے لیے اعتکاف کی حالت میں مسجد سے نکلنے کا کیا حکم ہے؟ کیا سب جماعتوں کے ووٹ کا اس میں ایک ہی حکم ہے یا کوئی ایسی جماعت بھی ہے جسے ووٹ ڈالنے گئے تو اعتکاف نہیں ٹوٹے گا؟

جواب

صورت مسئولہ میں  ووٹ ڈالنے کے لیے اعتکاف سے نکلنے سے اعتکاف فاسد ہوجائے گاچاہے کسی بھی جماعت کو ووٹ ڈالنے کی نیت سے مسجد سے نکلا ہو۔ ایسے شخص پر ایک دن رات کے اعتکاف کی قضا لازم ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے :

"إذا خرج لإنقاذ غريق أو حريق أو جهاد عم نفيره فسد، ولا يأثم."

(۲ ؍ ۴۴۷، سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100748
تاریخ14-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں