بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دوائیوں پر زکاۃ کی ادائیگی

سوال

دوائیوں کی زکوة کیسے ادا کریں؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں بیچنے کے لیے خریدی گئی دوائیوں پرسال مکمل ہو نے کے بعد دکان میں موجو د تمام ادویہ کا حساب لگا کر قیمتِ فروخت کے حساب سے  قیمت لگا کر   رقم کے مجموعہ سے ڈھائی فیصد زکوۃ  اد کی جائے گی ۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية."

(كتاب الزكاة ، الباب الثاني في العروض،179/1،ط:دار الفكر)

بدائع الصنائع میں ہے :

"وأما أموال التجارة فتقدير النصاب فيها بقيمتها من الدنانير والدراهم فلا شيء فيها ما لم تبلغ قيمتها مائتي درهم أو عشرين مثقالا من ذهب فتجب فيها الزكاة."

(كتاب الزكاة ،فصل اموال التجارة،20/2،ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100724
تاریخ14-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں