بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ناپاک کپڑوں میں رہنا

سوال

ان کپڑوں کو پہنے رہنا جن میں غسل واجب ہو گیا ہو، یعنی ناپاک کپڑوں میں، اس پر کیا بیان ہے؟

جواب

ناپاک کپڑوں میں بلا ضرورت رہنا مناسب نہیں ہے،ا س میں ایک قسم کی کراہت ہے۔

تفسير القرطبي میں ہے:

"ومن ذهب إلى القول الثامن قال: إن المراد بها الثياب الملبوسات فلهم في تأويله أربعة أوجه: أحدهما- معناه وثيابك فأنق ......الثالث- وثيابك فطهر من النجاسة بالماء، قاله محمد بن سيرين وابن زيد والفقهاء."

(سورۃ مدثر ج : ۱۹ ص : ۶۵،دار الکتب المصریۃ)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"رات کو ناپاک کپڑے پہن کر سونا درست ہے۔ بلا ضرورت مناسب نہیں ، اس میں ايك  قسم کی کراہت ہے۔"

(کتاب الطہارت، باب الانجاس، ج : ۵ ص :  ۲۷۵،جامعہ فاروقیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100719
تاریخ14-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں