بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کی بچہ دانی سے پانی نکالنے کی وجہ سے روزے کا حکم

سوال

عورت کے رحم (بچہ دانی) سے ٹیوب کے ذریعہ پانی نکالنے سے روزہ ٹوٹ جاتاہے یا نہیں؟

جواب

عورت کی بچہ دانی سے  پانی نکالنے کے لیےجس ٹیوب کو شرم گاہ کے راستے سے داخل کیا جا رہا ہو اگر اس پر کوئی دوائی یا جیل لگی ہوئی ہو تو اس کو داخل کرنے سے روزہ فاسد ہو جائے گا، اور اگر وہ ٹیوب خشک ہو اُس پر کوئی دوائی یا جیل نہ لگی ہو تو محض  بچہ دانی سے پانی نکالنے کی بناء پر روزہ فاسد نہیں ہو گا، تاہم ایک مرتبہ ٹیوب داخل کرنے کے بعد وہ تر ہوجائے اور پھر تر ٹیوب کو داخل کیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا، ایسی صورت میں قضاء لازم ہو گی، کفارہ لازم نہیں ہو گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما في قبلها فمفسد إجماعا لأنه كالحقنة."

(کتاب الصوم، ‌‌باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، جلد:2، صفحہ: 400، طبع:سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ومن احتقن أو استعط أو أقطر في أذنه دهنا أفطر، ولا كفارة عليه هكذا في الهداية."

(کتاب الصوم، الباب الرابع، النوع الاول، جلد:1، صفحہ:204، طبع: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100634
تاریخ13-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں