بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں احتلام ہوجائے تو روزے کا حکم

سوال

  اگر کسی شخص کو  روزہ کی میں حالت خواب   میں احتلام ہوجائے کیا روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں  اگر  کسی شخص کو روزہ کی  حالت میں احتلام ہو جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، البتہ جتنا جلدی ہوسکے غسل کرلیا جائے، بلاوجہ غسل میں تاخیر نہ کرے ،تاکہ روزے کا زیادہ سے زیادہ وقت پاکی میں گزرے، غسل میں اتنی تاخیر کرنا کہ نماز قضا ہوجائے گناہ ہےاور غسل کرتے وقت  اس بات کا خیال رکھے کہ غرغرہ نہ کرے بلکہ صرف منہ بھر کر کلی کرلے اس طور پر کہ حلق میں پانی نہ جائے ،اسی طرح ناک میں پانی اتنی شدت سے نہ ڈالے کہ حلق تک پہنچ جائے ۔

الدرالمختار وحاشية ابن عابدين میں ہے: 

"(أواحتلم أو أنزل بنظر)...... (لم يفطر)، جواب الشرط".

(باب  ما یفسد الصوم وما لا یفسد، ج: 2، صفحہ: 396، ط: ایچ، ایم، سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے: 

"ومن أصبح جنبا أو احتلم في النهار لم يضره كذا في محيط السرخسي."

(کتاب الصوم، الباب الثالث فيما يكره للصائم وما لا يكره، ج: 1، صفحہ: 200، ط: دار الفکر) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100568
تاریخ12-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں