بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسافر کے لیے دورانِ سفر روزہ توڑنے کا حکم

سوال

مسافر روزہ رکھ کر گھر سے نکلے،  سفر پر روانہ ہو، اور سفر  پانچ سو  (500) کلومیٹر ہو، لیکن پر سکون ہو، لیکن روزہ رکھنے میں عام روزہ رکھنے کی نسبت زیادہ تنگی ہورہی ہو،  تو روزہ توڑ سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

 اگر مسافر  سحری کے وقت مقیم تھا تو اس پر روزہ رکھنا لازم ہے اس کے بعد   سفر شروع کیا تو اب  مسافر  کے لیے   شدید عذر کے بغیر  روزہ توڑنا جائز نہیں ہے، تاہم اگر  روزہ توڑ دیا تو صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

فتاویٰ شامی (ردّالمحتار ) میں ہے:

"قال في البحر: وكذا لو نوى المسافر الصوم ليلا وأصبح من غير أن ينقض عزيمته قبل الفجر ثم أصبح صائما لا يحل فطره في ذلك اليوم، ولو أفطر لا كفارة عليه. اهـ".

(کتاب الصوم، سبب صوم رمضان، ج:2، ص:431، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100564
تاریخ12-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں