بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رہائشی مکان فروخت کرنے پلاٹ پر مکان بنانے کی نیت ہونے کی صورت پلاٹ پر زکوٰۃ کا حکم

سوال

 میرا اپنا رہائشی گھر ہے،  اس کے علاوہ میرے پاس ایک کنال کا ایک پلاٹ بھی ہے ،  میرا ارادہ اس گھر کو بیچ کر اس پلاٹ پر مکان بنانے کا ہے،  کیا اس پلاٹ پر مجھے زکوٰۃ دینی ہے؟ اور کیا پورے پلاٹ کی قیمت پر دینی ہو گی یا  جو پلاٹ کا منافع ہے اس پر زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ  سائل کا اپنے رہائشی مکان کو  فروخت کرکے، اپنی ملکیت میں موجود پلاٹ   پر مکان تعمیر کرنے کا ارادہ ہے، اس لیے  مذکورہ مکان اور  پلاٹ دونوں پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة."

(1/ 172، كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها ،ط. رشيديه)

الفقه الإسلامي وأدلته میں ہے:

"أما العقار الذي يسكنه صاحبه أو يكون مقراً لعمله كمحل للتجارة ومكان ‌للصناعة، فلا زكاة فيه."

(3/ 1866، زكاة عروض التجارة، ط: دارالفكر دمشق)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100562
تاریخ12-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں