بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے تہ خانہ میں اعتکاف کرنے کا حکم

سوال

مسجد کے بیسمنٹ میں اعتکاف جائز ہے یا نہیں؟نیز بیسمنٹ سے اوپر چھت تک جانے کے لیے دو راستے ہیں ایک مسجد سے باہر وضوخانوں کی طرف سے جبکہ دوسرا راستہ مسجد کے اندر،وضوخانوں والا راستہ اختیار کرنےکی صورت میں اعتکاف کا حکم بیان کریں؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں مسجد کاتہ خانہ اگر مسجد کی حدود ہی کے اندر ہو،   مسجد کا ہی حصہ ہو تو اس میں اعتکاف کرنا درست ہے،البتہ مسجد سے باہر وضو خانوں  کی سیڑھیوں کے ذریعہ اعتکاف کی حالت میں مسجد کے تہ خانہ سے مسجد میں جانےسے اعتکاف فاسد ہوجائے گا ۔اس  لیے آمدورفت کے  لیے مسجد کے اندر والی سیڑھیاں ہی استعمال کی جائیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و منها مسجد الجماعة فيصح في كل مسجد له أذان، و إقامة هو الصحيح كذا في الخلاصة. و أفضل الاعتكاف ما كان في المسجد الحرام ثم في مسجد النبي عليه الصلاة والسلام ثم في بيت المقدس ثم في الجامع ثم فيما كان أهله أكثر، وأوفر، كذا في التبيين."

(كتاب الصوم، الباب السابع في الإعتكاف، 211/1 ،ط: رشيدية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن خرج من غير عذر ساعة فسد اعتكافه في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى، كذا في المحيط. سواء كان الخروج عامدًا أو ناسيًا، هكذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الصوم، الباب السابع في الإعتكاف، 212/1،ط: رشيدية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100533
تاریخ11-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں