بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سنت کی چار رکعتوں میں ایک سورت دہرانا

سوال

سنت نماز کی چاروں رکعتوں میں صرف ایک ہی سورت پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص ایک ہی سورت کو ایک رکعت میں پڑھنے  کے بعد دوسری رکعت میں بھی دہراتا ہے تو ایسا کرنا جائز ہے,  البتہ  فرض نماز میں  جان کر بلاوجہ ایسے کرنا مکروہِ تنزیہی  ہے،  بھول کر یا مجبوری کی وجہ سے اگر فرض نماز میں پڑھے تو کراہت نہیں ہوگی، سنتوں اور نوافل میں بلا کراہت جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"لا بأس أن يقرأ سورة ويعيدها في الثانية."
(قوله: لا بأس أن يقرأ سورة إلخ) أفاد أنه يكره تنزيهاً، وعليه يحمل جزم القنية بالكراهة، ويحمل فعله عليه الصلاة والسلام لذلك على بيان الجواز، هذا إذا لم يضطر، فإن اضطر بأن قرأ في الأولى: {قل أعوذ برب الناس} [الناس: 1] أعادها في الثانية إن لم يختم، نهر؛ لأن التكرار أهون من القراءة منكوساً، بزازية، وأما لو ختم القرآن في ركعة فيأتي قريباً أنه يقرأ من البقرة."

(کتاب الصلوۃ، فصل فی القراءۃ،1/ 546، ط:سعید کراچی)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100532
تاریخ11-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں