بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح الگ سنت ہے اور تراویح میں ختمِ قرآن الگ سنت ہے

سوال

 اگر ایک مسجد میں چھوٹی سورتیں پڑھی جارہی ہوں اور  دوسری مسجد میں ختم قرآن مجید کا اہتمام ہو  تو تراویح دونوں مسجدوں میں ادا کی جا سکتی ہے یا صرف ختم قرآن مجید سن کر ہی تراویح ہو گی؟

جواب

واضح رہے کہ تراویح کی نماز پڑھنا مستقل سنت ہے اور تراویح کی نماز میں ایک مرتبہ قرآن ختم کرنا الگ سنت ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں دونوں میں سے کسی بھی مسجد میں تراویح پڑھنے سے تراویح کی سنت ادا ہوجائے گی، تاہم جس مسجد میں مکمل قرآن پڑھا جارہا ہو، وہاں پڑھنا بہتر ہے تاکہ ختمِ قرآن کی سنت بھی ادا ہوجائے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(التراويح سنة) مؤكدة لمواظبة الخلفاء الراشدين (للرجال والنساء) إجماعا."

(كتاب الصلاة، باب التراويح،۲ ؍ ۴۳، سعید)

وفيه أيضا:

"(والختم) مرة سنة ومرتين فضيلة وثلاثا أفضل."

(كتاب الصلاة، باب التراويح،۲ ؍ ۴۶، سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100513
تاریخ11-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں