وتر میں ونخلع کی جگہ ونخلق پڑھے کا حکم
سوال
اگر وتر میں دعائے قنوت میں ونخلع کی جگہ ونخلق پڑھ دیا تو کیا نماز ہوگئی؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں وتر کی نماز میں اگر ونخلع کی ونخلق پڑھ لیا تو معنی کے بدل جانے سے نماز نہیں ہو گی، اعادہ لازم ہو گا۔
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:
"ولو قرأ في دعاء القنوت....ونسطغفرك بالطاء قال: تفسد، ولو قرأ إنا نستعنك بغير ياء، فقال: لا تفسد ، قيل ولو قرأ ونتوكن عليك بالنون فقال: تفسد، قيل ولو قرأ ونخنع قال: تفسد إذا تبين منه ذلك."
(کتاب الصلاۃ، الفصل الاول من مسائل زلۃ القاری۔۔۔ج: 2، صفحہ: 85)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

