بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس دن سفر پر جانا ہو اس دن کے رکھے ہوے روزے کا حکم

سوال

اگر روزہ رکھا ہوا ہو اور سفر بھی کرنا ہو تو کیا ہم روزہ قصر کر سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شرعا روزہ میں قصر نہیں ہے، اور اگر کوئی شخص صبح صادق سے پہلے مقیم ہو، سفر شروع نہ ہوا ہو تو اس پر روزہ رکھنا اور روزہ کی نیت کرنا ضروری ہے، اگرچہ دن میں سفر کا ارادہ ہو، اور سفر شروع ہو جانے کے بعد  اس کے لیے توڑنا جائز نہیں ہے،   البتہ  اگر کسی عذرِ شرعی کی وجہ سے روزہ توڑ دیا تو  اس پر صرف قضا لازم ہوگی کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(كما يجب ‌على ‌مقيم ‌إتمام) صوم (يوم منه) أي رمضان (سافر فيه) أي في ذلك اليوم(و) لكن (لا كفارة عليه لو أفطر)......(قوله كما يجب على مقيم إلخ) لما قدمناه أول الفصل أن السفر لا يبيح الفطر، وإنما يبيح عدم الشروع في الصوم، فلو سافر بعد الفجر لا يحل الفطر،قال في البحر: وكذا لو نوى المسافر الصوم ليلا وأصبح من غير أن ينقض عزيمته قبل الفجر ثم أصبح صائما لا يحل فطره في ذلك اليوم، ولو أفطر لا كفارة عليه."

(کتاب الصوم، فصل فی العوارض المبیحہ لعدم الصوم، ج:2، ص:431، ط:سعید)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100454
تاریخ10-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں