بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

منکرِ شفاعت کا حکم

سوال

 ختم النبوت کا منکر کافر ہے ،اور ختم النبوت کى احادىث معنًا متواتر ہیں اسى طرح شفاعت کى احادیث بھى معنًا متواتر ہیں تو شفاعت کا منکر صرف گمراہ کیوں ہے کافر کیوں نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں منکرِ ختم نبوّت کی طرح حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی   شفاعت کا منکر   بھی کافر  ہی ہے۔

إكفار الملحدين في ضروريات الدين میں ہے:

"والحاصل أن من كان من أهل قبلتنا ولم يغل حتى لم يحكم بكفره تصح الصلاة خلفه، وتكره، ولا يجوز خلف منكر الشفاعة، والرؤية، وعذاب القبر، والكرام الكاتبين، لأنه كافر لتواتر هذه الأمور من الشارع عليه السلام".

(النقل فيه عن المحدثين والفقهاء والمتكلمين وكبار المحققين وجم غفير من المصنفين، ص:51، ط:المجلس العلمی/ پاکستان)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100416
تاریخ10-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں