بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس شخص کی رمضان المبارک میں عشاء کی نمازجماعت سے چھوٹ جائے تو کیاوہ وتر کی نماز جماعت سے پڑھ سکتاہے؟

سوال

اگر رمضان میں کسی کی عشاء  کی جماعت چھوٹ جائے تو کیا وہ وتر جماعت سے پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص رمضان المبارک میں عشاء  کی  نماز  جماعت  سے نہ  پڑھ  سکا ہو تو  وہ  وتر  کی  نماز   جماعت  سے   پڑھ   سکتا ہے، بشرطیکہ تراویح کی کچھ رکعات جماعت سے ادا کی ہوں، مذکورہ شخص کو چاہیے کہ پہلے عشاء کی فرض نماز تنہا پڑھ کر تراویح کی جماعت میں شرکت کرے، پھر وتر کی نمازبھی جماعت سے پڑھے۔

فتاوٰی عالمگیری میں ہے:

"و إذا صلى معه شيئاً من التراويح أو لم يدرك شيئاً منها أو صلاها مع غيره له أن يصلي الوتر معه هو الصحيح، كذا في القنية."

(کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل،فصل في التراويح، 117/1، ط: رشیدیة)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100381
تاریخ09-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں