بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

استحقاقِ زکوٰۃ

سوال

ایک امام مسجد ہے جس کے پاس ایک موٹر سائیکل ہے اور ایک گاۓ پالتا ہے،  اس کے علاوہ اس نے اپنے گھر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے آدھا کراۓ پر دیا ہے تو کیا اس صورت میں اس کو زکوۃ دی جاسکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جو  غیر سید ہو اور اس  کے پاس بنیادی ضرورت کی اشیاء کے علاوہ اتنا زائد مال نہ ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہوتو اس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔

لہذا اگر ان امام صاحب کے پاس کرایہ سے  حاصل ہونے والی آمدنی بچتی نہ ہو یا اتنی ہو کہ جو نصاب سے کم ہو تو پھر ان کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، لیکن اگر کرایہ سے بچت اتنی ہو جو ساڑھے باون تولہ چاندی کے نصاب کے بقدر ہو کر قرضوں سے زائد ہو، تو پھر ان کو زکوٰۃ  نہیں دی جاسکتی ہے، موٹر سائیکل اور گائے اگر تجارت کے  لیے نہیں بلکہ گائے استعمال کے دودھ کےلئے ہے تو  ان پر زکوٰۃ نہیں اور نہ ان کی وجہ  سے وہ صاحبِ نصاب کہلائیں گے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي."

(كتاب الزكوة، 189/1، رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100334
تاریخ09-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں