بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نافرمان بیوی کے نفقہ کا حکم

سوال

اگر عورت شوہر کا گھر  کسی وجہ کے بغیر  چھوڑ جائےاور کورٹ سے جا کر خلع لے اور اپنے والدین کے گھر میں عدت گزارے تو کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس حوالے سے کہ  کیا بیوی کے نان نفقہ اور عدت کا نان نفقہ شوہر کے ذمے شرعاً واجب ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بیوی اگر شوہر کی اجازت کے بغیر  بلا وجہ میکے میں بیٹھی ہو وہ ناشزہ ہونے کی وجہ سے نفقہ کی حق دار نہیں جب تک وہ شوہر کے گھر نہ آئے یا شوہر اس کو وہاں رہنے کی اجازت نہ دے ، لہذا صورت ِ مسئولہ میں شوہر پر بیوی کا نان نفقہ  دینا شرعاً لازم نہیں ہے۔

در مختار وحاشیۃ ابن عابدین میں  ہے :

"(لا) نفقة لأحد عشر: مرتدة، ومقبلة ابنه، ومعتدة موت ومنكوحة فاسدا وعدته، وأمة لم تبوأ، وصغيرة لا توطأ، و (خارجة من بيته بغير حق) وهي الناشزة حتى تعود ولو بعد سفره خلافا للشافعي، والقول لها في عدم النشوز بيمينها، وتسقط به المفروضة لا المستدانة في الأصح كالموت، قيد بالخروج؛ لأنها لو مانعته من الوطء لم تكن ناشزة."

(کتاب الطلاق،باب النفقۃ،ج:۳،ص:۵۷۶،سعید)

وفيه أيضاّ:

"وفي المجتبى: ‌نفقة ‌العدة كنفقة النكاح. وفي الذخيرة: وتسقط بالنشوز وتعود بالعود."

(کتاب الطلاق،باب النفقہ ،ج:۳،ص:۶۰۹،سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100311
تاریخ07-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں