بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فجر کی اذان کے بعد پانی پی کر روزہ رکھنا

سوال

 اگر بندے کی پورے رمضان کے مہینہ میں روزے رکھنے کی نیت ہو اور کسی دن سحری کے وقت آنکھ نہ کھلے،  5بجے آنکھ کھلے جب اذانیں ہو چکی تھیں اور اس نے پانی پی کر روزے کی نیت کر لی تو کیا روزہ ہو جاۓ گا ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں فجر کی اذان کے بعد پانی پی کر روزہ رکھنے سے روزہ نہیں ہوا، مذکورہ شخص رمضان کے بعد اس دن کے روزے کی قضا کرے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"وعند علمائنا الثلاثة لا يجوز إلا بنية جديدة لكل يوم من الليل أو قبل الزوال مقيما أو مسافرا سراج."

(۲ ؍ ۳۸۰، سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100303
تاریخ07-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں