بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ناپاکی کی حالت میں نکاح

سوال

جس دن میرا نکاح تھا اس دن مجھے احتلام ہوگیا تھا رات کو اور مجھے یہ بھی نہیں پتا تھا کہ آج میرا نکاح ہے،  جب آدھے سے زیادہ راستہ گُزر گیا تب پتا چلا کہ آج نکاح ہے اور نکاح  ایک مسجد میں ہی مدرسہ تھا اور اُنکے دفتر میں نکاح ہوا یعنی ناپاکی کی حالت میں ہُوا تو کیا ایسی حالت میں نکاح ہوگیا یا نہیں ہُوا؟

جواب

نکاح منعقد ہونے کے لیے پاکی کی حالت شرط نہیں ہے لہذا  اگر مدرسے کے دفتر میں گواہوں کی موجودگی میں آپ کے نکاح  کا ایجاب و قبول ہوا تھا تو آپ کا نکاح منعقد ہوچکا ہے۔ تاہم  ناپاکی  کی حالت میں جلد سے جلد غسل کرنا چاہیے۔غسل میں اتنی تاخیر کرنا کہ نماز قضا ہوجائے یا اسی حالت میں مسجد میں داخل ہونا گناہ ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع  میں ہے :

"ولا يباح للجنب دخول المسجد."

(۱ ؍ ۳۸، دار الکتب العلمیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100237
تاریخ06-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں