بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبلے کی طرف پاؤں کرکے سونا

سوال

کسی بھی مسجد میں قبلے کی طرف پاؤں کرکے سونا کیسا ہے ؟

جواب

مسجد میں یا کسی بھی جگہ میں   قبلہ  کی طرف پاؤ ں پھیلاکر سونا خلافِ ادب  ہے، اگر بلا عذر قصدًا (جان بوجھ کر) ایسا کیا جائے تو مکروہِ تحریمی ہے، اور مکروہِ تحریمی کا ارتکاب گناہ ہے، یہاں تک کہ  قصداً  کعبۃ اللہ کی طرف پاؤں پھیلانے والے کی گواہی  بھی مردود ہے جب کہ گواہی صرف اسی عمل کے ارتکاب سے مردود ہوتی ہے جو عمل فسق کے دائرہ میں داخل ہوتا ہو، تاہم اگر قصدًا یا  تساھلاً  ( معمولی اور ہلکا سمجھتے ہوئے) نہ ہو تو پھر گناہ نہیں، البتہ خلافِ ادب ضرور ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ مسافر اور معتکف کے علاوہ افراد کے لیے مسجد میں کھانا ، پینا اور سونا مکروہ ہے، مسافر اور معتکف کے لیے مسجد میں کھانے ، پینے اور سونے کی گنجائش ہے۔

 فتاوی شامی میں ہے: 

"و یکره  تحریماً استقبال القبلة بالفرج ... کما کره مد رجلیه فی نوم او غیرها الیها ای عمدا لانه اساءة ادب. قال تحته: سیاتی انه بمد الرجل الیها ترد شهادته."

( ج: ۱، ص: ۶۵۵،ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100227
تاریخ06-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں