بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جوبلی تکافل کا حکم

سوال

 جوبلی تکافل کے بارے میں رہنمائی فرمائیں ، جائز ہے یا  نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ تکافل کی تمام اقسام ربا، قمار اور غرر کے پائے جانے کی وجہ سے حرام ہیں،  لہذا کسی بھی قسم کے تکافل کی پالیسی خریدنا اور اس میں حصہ دار بننا شرعاً ناجائز و حرام ہے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"والذي يظهر لي: أنه ‌لا ‌يحل ‌للتاجر ‌أخذ بدل الهالك من ماله لأن هذا التزام ما لا يلزم."

(باب المستامن، ص:170، ج:4،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100173
تاریخ05-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں