بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزہ میں نامحرم عورت سے بات چیت کے دوران شہوت آنے پر روزہ کا حکم

سوال

اگر  کسی غیر محرم عورت سے فون پر  بات کرتے وقت شہوت آجائے تو کیا  روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  نامحرم عورت سے بلاضرروت گفتگو، ہنسی مذاق اور بے تکلفی کرنا جائز نہیں،لہذا چاہے روزہ ہو یا روزہ نہ ہو دونوں صورتوں میں اس گناہ سے بچنے  کی ضرورت ہے ۔البتہ اگر کوئی شخص روزہ میں نامحرم عورت سے بات  کرے اور اس دوران اس کو شہوت ہوجائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔البتہ شہوت کی وجہ سے اگر مذی نکل گئی تو وضو ٹوٹ جائے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"و لايكلم الأجنبية إلا عجوزاً عطست أو سلّمت فيشمتها و يرد السلام عليها، وإلا لا۔ انتهى.

(قوله: وإلا لا) أي وإلا تكن عجوزاً بل شابةً لا يشمّتها، ولا يرد السلام بلسانه۔ قال في الخانية: وكذا الرجل مع المرأة إذا التقيا يسلّم الرجل أولاً، وإذا سلّمت المرأة الأجنبية على رجل إن كانت عجوزاً رد الرجل عليها السلام بلسانه بصوت تسمع، وإن كانت شابةً رد عليها في نفسه، و كذا الرجل إذا سلّم على امرأة أجنبية، فالجواب فيه على العكس. اهـ."

 (كتاب الحظر والإباحة,فصل في النظر والمس ,رد المحتار6/ 369ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا نظر إلى امرأة بشهوة في وجهها أو فرجها كرر النظر أولا لا يفطر إذا أنزل كذا في فتح القدير، وكذا لا يفطر بالفكر إذا أمنى هكذا في السراج الوهاج."

(كتاب الصوم, الباب الرابع فيما يفسد وما لا يفسد,1/ 204ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100091
تاریخ04-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں