بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ بچے کی طلاق کا حکم

سوال

نابالغ بچوں کا نکاح ان کے اولیاء نے کر دیا تھا، اب ان کے اولیاء ان کے نکاح کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور ابھی بچے نا بالغ ہی ہیں۔ تو اب ان کے نکاح کو کیسے ختم کیا جائے گا؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں جب تک شوہر نابالغ ہے تب تک وہ یا اس کا والد اس کی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا، شوہر کے بالغ ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

" وأهله زوج عاقل بالغ مستيقظ.

(قوله: وأهله زوج عاقل إلخ) احترز بالزوج عن سيد العبد ووالد الصغير، وبالعاقل ولو حكما عن المجنون والمعتوه والمدهوش والمبرسم والمغمى عليه، بخلاف السكران مضطرا أو مكرها، وبالبالغ عن الصبي ‌ولو ‌مراهقا، وبالمستيقظ عن النائم. "

(كتاب الطلاق، 3/ 230، ط: سعيد)

’’بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع ‘‘میں ہے:

" ومنها أن يكون بالغا فلا يقع طلاق الصبي وإن كان عاقلا لأن الطلاق لم يشرع إلا عند خروج النكاح من أن يكون مصلحة وإنما يعرف ذلك بالتأمل والصبي لاشتغاله باللهو واللعب لا يتأمل فلا يعرف."

(كتاب الطلاق، فصل في شرائط ركن الطلاق، 3/ 100، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100069
تاریخ04-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں