بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

احتلام کے کپڑے کو دھونے کا طریقہ

سوال

اگر روزے کے دوران احتلام ہو جائے اور وہ اس حالت میں ہوکہ نہانے کی سہولت موجود ہو ،لیکن اضافی کپڑے نہ ہوں، تو اس صورت میں کپڑے کو پاک کرنے کا طریقہ بتائیں تاکہ نماز ادا کی جا سکے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں کپڑے کے جس حصہ پر منی لگی ہو، اس حصہ کو  تین مرتبہ اچھی طرح دھو کر ہر مرتبہ اس طرح نچوڑ لیں کہ قطرے ٹپکنا بند ہوجائے، یا بہتے پانی میں اتنی دیر دھوئیں کہ نجاست کے زائل ہونے کا اطمینان ہوجائے، اس سے وہ کپڑا پاک ہوجائے گا اور  کپڑے کا  ناپاک حصہ  پاک کرنے کے بعد اس میں نماز پڑھ سکتے  ہیں،  خواہ وہ ابھی خشک نہ ہوا ہو، پورا کپڑا دھونا     ضروری نہیں۔

الدر مع الرد میں ہے: 

"(وغسل طرف ثوب) أو بدن (أصابت نجاسة محلاً منه".

(باب الأنجاس: ص 327، ج 1، ط: سعید)

فتاوٰی ہندیہ میں ہے:

"ثوب نجس غسل في ثلاث جفان، أو في واحدة ثلاثا، وعصر في كل مرة طهر؛ لجريان العادة بالغسل. هكذا فلو لم يطهر لضاق على الناس."

(الفصل الأول في تطهیر الأنجاس: ص 43، ج 1، ط: حقانیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309100014
تاریخ03-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں