بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لا علمی میں مزدور کو حق پورا نہ ملے تو مالک کے لیے حکم

سوال

اگر غلطی یا لاعلمی کی وجہ سے کسی مزدور کی تنخواہ کے مطابق حق تلفی ہوئی ہو،اور اب پتہ بھی نہ ہو،کہ کس مزدور کو ان کا پورا حق نہ ملا ہو،اور مزدور نے بھی مطلع نہ کیا ہو،اس حالت میں مالک ِ کاروبار کو کیا کرنا چاہیے؟۔

جواب

صورت ِ مسئولہ  میں اگر واقعۃ ً کسی مزدور کو اس کی مزدوری دینے میں حق تلفی ہوئی ہو  اور مزدور نے مطلع بھی نہ کیا ہو  تو اس صورت میں مالک مزدور کو تلاش کرے نہ ملے تو اتنی مقدار اس مزدور کی طرف سے صدقہ کردیں اور اگر بعد میں مزدور آکر اپنے حق کا مطالبہ کرے گا تو اس کو اس کا حق دینا شرعاًلازم ہوگا۔

مبسوط سرخسی میں ہے :

"فأما (النوع الثاني): وهو ما يعلم أن صاحبه يطلبه فمن يرفعه فعليه أن يحفظه ويعرفه ليوصله إلى صاحبه، وبدأ الكتاب به ورواه عن إبراهيم قال في اللقطة: يعرفها حولا، فإن جاء صاحبها وإلا تصدق بها، فإن جاء صاحبها فهو بالخيار إن شاء أنفذ الصدقة، وإن شاء ضمنه."

(کتاب اللقطۃ،ج:۱۱،ص:۳،دارالمعرفۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308102176
تاریخ31-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں