بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زمزم کو بیچنے کا حکم

سوال

کیا زمزم کی خریدوفروخت جائز ہے؟کیونکہ آج کل جدہ سے زمزم لانے پر پابندی ہے۔

جواب

واضح رہے کہ آبِ زمزم ایک  مبارک مباح چیز ہے اور مباح چیز کا بیچنا جائز ہے ،جب کہ وہ ملکیت میں ہو،اور آب زمزم کو محفوظ کرنے سے وہ ملکیت میں آجاتاہے ،لہٰذا صورت مسؤلہ میں آب زمزم کا بیچنا جائزہے۔

فتاوی تاتار خانیہ میں ہے؛

"وروي بشر بن الوليد عن أبي يوسف اذا هيّأ الرجل مصنعه و استقى الماء بالأوعية حتى جمع فيها ماء كثيرا ثم باعه جاز البيع."

(كتاب البيوع ،فصل في الماء والجمد ، ج: 8، ص: 367 ، ط: رشيدية)

امداد الفتاوی میں ہے :

"بظاہر اس تجارت سے کوئی امر جواز مانع نہیں ،متقوم بھی ہے ،احراز سےملک میں بھی داخل ہوجاتاہے ،اور بلانکیر زمزمیاں بیچنے کا تعامل بھی ہے اور دونوں جز مبیع ہوتے ہیں ۔"

(کتاب البیوع ، باب بیع جائز و ناجائز یا مکروہ معاملاتِ بیع،ج:6، ص:521،ط:مکتبہ رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308102097
تاریخ30-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں