بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صاحبِ نصاب مسافر کو زکوۃ دینے کا حکم

سوال

کیا صاحبِ نصاب مسافر کوزکات کی رقم دی جاسکتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص شرعاً مسافر ہے اور اس کے پاس نصاب کے بقدر مال موجود ہے ، یا اس کی ملکیت میں اپنے مقام پر نصاب کے بقدر مال موجود ہے جو اس کی دسترس میں ہے، یعنی طلب کرنے پر اسے فوری دست یاب ہوسکتا ہے  تو ایسی صورت میں اس کے لیے زکات لینا جائز نہیں، اور اگرمذکورہ شخص اپنے مقام پر توصاحبِ نصاب ہے لیکن سفر کے اندر اس کے پاس نصاب کے بقدر مال نہیں اور جو مال گھر پر ہے وہ اس کی دسترس میں بھی نہیں یعنی طلب کرنے پر فوری طور پر  دست یاب نہیں ہو سکتا، تو ایسی صورت میں اس کو زکوۃ کی رقم دی جا سکتی ہے،اس صورت میں اس مسافر کے لئے زکات لینا جائز ہوگا۔  

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2/ 260):

"(قوله: وابن السبيل) هو المنقطع عن ماله لبعده عنه والسبيل الطريق فكل من يكون مسافرًا يسمى ابن السبيل، وهو غني بمكانه حتى تجب الزكاة في ماله، ويؤمر بالأداء إذا وصلت إليه يده، وهو فقير يدا حتى تصرف إليه الصدقة في الحال لحاجته، كذا في الكافي."

(کتاب الزکاۃ،باب مصرف الزکاۃ، ط:دارالکتاب الاسلامي بیروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308102016
تاریخ29-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں