بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حقیقی بھائی کی موجودگی میں علاتی بھائی محروم ہوگا

سوال

ایک شخص" ج" پہلی بیوی "ب" کی وفات کے بعد دوسری شادی "ت" سے کرتا ہے،  دونوں بیویوں سے دو دو بیٹے پیدا ہوئے یعنی اس شخص کے چار بیٹے ہوگئے،  والدین کے انتقال کے بعد زمین چار بیٹوں میں برابر تقسیم ہوگئی،  کچھ عرصے کے  بعد دوسری بیوی سے جو دو بیٹے تھے،  ان میں سے ایک کا انتقال ہوگیا،  جس کی شادی بھی نہیں ہوئی تھی،  اب اس کا  پورا حصہ اپنے سگے بھائی کو منتقل ہوگیا اور دوسرے بھائیوں کو نہیں ملا۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا اس میں دوسرے دو بھائیوں کا حصہ ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم بیٹے کا پورا حصہ اس کے سگے بھائی کو ملے گا، سگے  بھائی کی موجودگی میں باپ شریک وارث نہیں ہوں گے۔

سراجی  میں ہے:

"و يسقط بنوا العلات أيضا بالأخ لأب و أم."

(احوال الاخوات لاب: 28، ط: بشری)

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101763
تاریخ26-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں