بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عالم دین کے لئے عورتوں کے کپڑوں کا آن لائن کاروبار کرنا کیسا ہے؟

سوال

میں آن لائن کام کرتا ہوں. جس مرد و عورتوں کے کپڑوں سمیت مختلف چیزیں شامل ہیں. عورتوں کے کپڑوں کی تصاویر مجھے کمپنی والے بھیج دیتے ہیں جن کی میں تشہیر کرتا ہوں. عورتوں کے کپڑوں کی تصویریں نہ تو ماڈل بنی ہوتی ہیں اور نہ ہی (ڈمی) مورتی نما جسم پر بلکہ طے شدہ کپڑوں کی تصاویر ہوتی ہیں یا پھر کسی صوفہ وغیرہ پر... وہ کپڑے بھی ان سلے ہوتے ہیں ٹو پیس اور تھری پیس. سلے سلائے بھی نہیں ہوتے. کپڑے فینسی بھی ہوتے ہیں اور سادہ بھی. پوچھنا یہ ہے کہ کیا ایک عالم کے لیے ایسے عورتوں کے کپڑوں کی تشہیر کر کے فروخت کرنا اس میں کوئی  قباحت ہے یا نہیں...؟ بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ عالم کے لیے یہ کام مناسب نہیں.

جواب

شرعی حدود اور علمی وقار  کا خیال رکھتے ہوئے عالم دین کے لئے عورتوں کے کپڑوں کی تشہیر کرکے بیچنے میں کوئی حرج نہیں ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101704
تاریخ24-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں