بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روایت: عورت کی برکت یہ ہے کہ اس سے پہلی بار بیٹی پیدا ہو، کی تحقیق

سوال

عورت کی برکت یہ ہے کہ اس سے پہلی بار بیٹی پیدا ہو ۔

(تاریخ ابن عساکر : 47/225  )

پوچھنا تھا  کہ اس حدیث کا اس کے علاوہ بھی کوئی حوالہ  ہے؟ 

جواب

سوال میں ذکر کردہ روایت تاریخ ابن عساکر کے علاوہ "مکارم الأخلاق للخرائطی "(ص:213،رقم الحدیث :646)،"تفسیر ابن مردویه"، اور"مسند فردوس للديلمي"  (1/ 214) میں موجود ہے، مگر جس سند سےنقل کی گئی ہے اس میں حد درجہ ضعف ہے، کیوں کہ اس سند کے بنیادی راوی العلاء بن کثیر ہیں ، جن کو امام بخاری اور ابو حاتم رازی نے  ’’منکر الحدیث‘‘  کہا ہے۔  (التاريخ الكبير:  6 /514، و الجرح والتعديل:  6 / 360)،اور  وہ روایت نقل کرتے ہیں مکحول سے، امام ابن عدی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ:

"و للعلاء ابن كثير عن مكحول عن الصحابة عن النبي صلى الله عليه وسلم نسخ كلها غير محفوظة و منكر الحديث." (5 / 219)

یعنی  العلاء بن کثیر عن مکحول سے مروی تمام نسخے غیر محفوظ ہیں ۔

تقریب التهذيب میں ہے :

"متروك رماه ابن حبان بالوضع". (436)

نیز اس سند کے دیگر راوی بھی کمزور ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ابن الجوزی نے اس حدیث کو اپنی کتاب الموضوعات  (2 / 276) میں، علامہ شوکانی نے  ’’الفوائد المجموعة‘‘ (133) میں نقل کیا ہے۔ حافظ  سیوطی نے  ’’اللآلئ المصنوعة‘‘  میں اس کے دو شاہد  نقل کیےہیں، لیکن  ان پر بھی سخت کلام ہے۔  (2/ 149)۔لہٰذا جب تک کوئی معتبر سند نہ ملے تو  حدیث کو بیان کرنے میں احتیاط کرنی چاہیے۔

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101676
تاریخ24-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں