بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کے ساتھ چار رکعت پڑھنے کے بعد وضو ٹوٹنے کا حکم

سوال

میں نے امام کے ساتھ چار رکعت نماز پڑھ لی اور بقیہ کے لیے گھر جارہا تھا،  راستے میں وضو ٹوٹ گیا ،تو پھر میں مکمل نماز پڑھوں یابقیہ نماز پڑھ لوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں  سائل  کےذمہ  صرف باقی ماندہ نمازکی ادائیگی لازم ہے،امام کے ساتھ پڑھی ہوئی چاررکعات دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

فتاوٰی شامی میں ہے:

‌‌"باب شروط الصلاة

هي ثلاثة أنواع: شرط انعقاد: كنية، وتحريمة، ووقت، وخطبة: وشروط دوام، كطهارة وستر عورة، واستقبال قبلة۔۔۔قال ابن عابدین:وأما شرط الدوام فهو ما يشترط وجوده في ابتداء الصلاة مستمرا إلى آخرها."

(کتاب الصلٰوۃ،باب شروط الصلاة ،401/1،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101617
تاریخ23-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں