بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرام کی کمائی سے اپنا کمیشن لینا

سوال

 زید نے بکر کے لیے گاڑی خریدی اور اس پر زید بکر سے بیس ہزار کمیشن لیتا ہے جو کہ طے ہوا تھا جبکہ زید کو معلوم ہے کہ بکر کی تمام کمائی حرام کی ہےتو کیا زید کے لیے یہ کمیشن لینا جائز ہوگا ؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں بکر نے جب اس بات کی صراحت نہیں  کی کہ وہ   زید کو کمیشن حرام آمدنی سے دے گا تو زید  کے لیے بکر سےاپنی محنت کا  کمیشن لینا جائز    ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهمَ...وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب."

 (كتاب البيوع، باب المتفرقات، مطلب إذا اكتسب حراما ثم اشترى فهو على خمسة أوجه، ج:7،ص:490)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101604
تاریخ23-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں