بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ترکہ کی دکان کے کرایہ میں ورثاء کا حصہ

سوال

اگر کسی کی چار بہنیں ہیں اور تین بھائی  ہوں اور میراث تقسیم کرنا چاہتے ہوں  اور  مرحوم کی دکانیں بھی ہوں  تو کیا اس دکانوں کا کرایہ جس نے میت کے بعد اس دکان کے کرائے  کھا لیا ہو تو اس کراۓ کا حساب  بھی تقسیم ہوگا  یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے تمام ترکہ  میں اس کے  سب ورثاء کا حق متعلق ہوجاتا ہے، اور تمام شرعی ورثاء اپنے اپنے  شرعی حصے کے تناسب سے اس ترکہ  میں  شریک ہوجاتے ہیں، اور اگر ترکہ کی  جائے داد کرایہ پر دی ہوئی ہوں  تو اس سے حاصل ہونے والا  کرایہ بھی ترکہ شمار ہوتا  ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں ترکہ کی دکانوں سے حاصل ہونے والے کرایہ بھی ترکہ ہے، اس کے کرایہ میں تمام ورثاء اپنے اپنے شرعی حصص کے تناسب سے شریک ہوں گے۔

 شرح المجلہ میں ہے:

"الاموال المشترکة شرکة الملك تقسم حاصلاتھا بین اصحابھا علی قدر حصصھم." 

(4/14، المادة :1073، الفصل الثاني: في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة، ط؛ رشیدیة)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101559
تاریخ23-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں