بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرحوم کے بھانجوں کا حصہ جب کہ بہن کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہوگیا ہو

سوال

مرحوم کی زندگی میں  اگر بہن مر جائے  تو کیا بھانجا، بھانجی وارث ہوں گے ؟

جواب

اگر مرحوم کے اور بہن بھائی حیات ہیں تو  مرحومہ کی اولاد مرحوم کے وارث نہیں ہوگی، بلکہ حیات بھائی بہن وارث ہوں گے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"باب توريث ذوي الأرحام (هو كل قريب ليس بذي سهم ولا عصبة) فهو قسم ثالث حينئذ (ولا يرث مع ذي سهم ولا عصبة سوى الزوجين) لعدم الرد عليهما (فيأخذ المنفرد جميع المال)بالقرابة."

(کتاب الفرائض ،باب توریث ذوی الارحام: ج6، ص: 791، ط: سعید)

سراجی میں ہے:

"ذو الرحم هو كل قريب ليس بذي سهم ولا عصبة ... و ذوو الأرحام أصناف أربعة: الصنف الأول ینتمی إلی المیت وهم أولاد البنات وأولاد بنات الابن."

(ص: 85 ط: مکتبة البشری کراتشی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101500
تاریخ22-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں