بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر نایٹ فال (احتلام/nightfall) کے بعد یہ پتہ نا چل رہا ہو کہ نکلنے والی چیز منی ہے یا مذی تو غسل کا کیا حکم ہو گا؟

سوال

اگر نائٹ فال (احتلام/nightfall) کے بعد یہ پتہ نا چل رہا ہو کہ نکلنے والی چیز منی ہے یا مذی تو غسل کا کیا حکم ہو گا؟

جواب

اگراحتلام  ہونا یاد ہو اور جاگنے کے بعد یہ پتہ نہ چل رہا ہو کہ نکلنے والی چیز منی ہے یا مذی تو اس صورت میں  غسل کرنا واجب ہے۔

رد المحتار میں ہے:

"اعلم أن هذه المسألة على أربعة عشر وجها؛ لأنه إما أن يعلم أنه مني أو مذي أو ودي أو شك في الأولين أو في الطرفين أو في الأخيرين أو في الثلاثة، وعلى كل إما أن يتذكر احتلاما أو لا، فيجب الغسل اتفاقا في سبع صور منها وهي: ما إذا علم أنه مذي، أو شك في الأولين أو في الطرفين أو في الأخيرين أو في الثلاثة مع ‌تذكر ‌الاحتلام فيها."

(كتاب الطهارة، سنن الغسل، ج:1، ص:163، ط:ايچ ايم سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101433
تاریخ22-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں