بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زائد دانت کا نکلوانا

سوال

انسان کے 32 دانتوں کے سوا اگر کوئی زائد دانت نکل آۓ تو  کیا اس کو اکھاڑنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ فقہاء کرام نے عیب کے ازالے کی غرض سے، ہلاکتِ جان سے امن کی صورت میں انسان کے کسی زائد عضو کو کاٹنے کی اجازت دی ہے۔صورتِ مسئولہ میں اگر انسان کے بتیس دانتوں کے سوا زائد دانت کا نکلنا باعثِ عیب ہوچہرہ یامنہ بدنما معلوم ہوتا ہو، تو اس کا اکھڑوانا جائز ہے۔

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"إذا أراد الرجل أن يقطع ‌إصبعا ‌زائدة أو شيئا آخر قال نصير - رحمه الله تعالى - إن كان الغالب على من قطع مثل ذلك الهلاك فإنه لا يفعل وإن كان الغالب هو النجاة فهو في سعة من ذلك."

(كتاب الكراهية، باب الحادي والعشرون فيما يسع من جراحات بني آدم والحيوانات، ج: 5، ص: 360، ط: دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101428
تاریخ21-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں