بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد سے زندگی میں میراث مانگنے کا حکم

سوال

والدین  اپنی زندگی میں اگر اپنا گھر بیچ رہے ہوں،  تو کیا اولاد کو میراث مانگنے   کا اختیار ہے؟

جواب

و اضح رہے کہ   ہر شخص اپنی زندگی میں اپنی جائداد کا مالک اور  خود مختار ہے،  وہ جو چاہے اس میں تصرف کرسکتاہے،  کسی  کو یہ    حق نہیں کہ اس کو تصرف کرنے سے منع کرے؛ کیونکہ جب تک مورث زندہ  ہو تو اس کی ملکیت میں کسی کا کوئی حق نہیں ہوتا۔

لہذا صورت مسئلہ میں  اولاد کو  یہ حق نہیں کہ اپنے والدین کی زندگی میں اس سے میراث کا مطالبہ کریں۔ 

درر الحكام في شرح  مجلۃ الاحکام  میں ہے:

"‌كل ‌يتصرف ‌في ‌ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير."

[ج:3، ص:201،ط: دار الجيل]

الموسوعۃ الفقہیۃ میں ہے:

"(وللإرث شروط ثلاثة) : أولها: تحقق موت المورث أو إلحاقه بالموتى حكما كما في المفقود إذا حكم القاضي بموته أو تقديرا كما في الجنين الذي انفصل بجناية على أمه توجب غرة."

[ج:3،ص:22، ط: دار السلاسل كويت]

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101420
تاریخ21-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں