بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پلاٹ خریدتے وقت تجارت کی نیت نہیں تھی تو زکات کا حکم

سوال

میں نے پانچ مرلے کا ایک پلاٹ 43 لاکھ روپے میں خریدا تھا، اس مقصد سے کہ اس پر گھر بناؤں گا یا تقسیم کے وقت بچوں کو دے دوں گا، ابھی یہ ذہن میں آتا ہے اسے بیچ کر بچوں میں رقم تقسیم کردوں یا بچوں کے نام کوئی دکان یا جائیداد خرید کر ان میں تقسیم کردوں، ابھی پلاٹ کی صحیح قیمت معلوم نہیں ہے، لیکن 90 یا 95 لاکھ کا اندازہ ہے، کیا اس پلاٹ پر زکات واجب ہے؟ اگر ہے تو قیمتِ خرید پر ہوگی یا موجودہ قیمت پر؟ زکات ہر سال دینی ہوگی یا بیچنے کے بعد؟

جواب

مذکورہ پلاٹ خریدتے وقت چونکہ آپ کی نیت اسے بیچنے کی نہیں تھی اس وجہ سے اس پلاٹ پر زکات واجب نہیں ہے۔

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (3/ 1866):

" أما العقار الذي يسكنه صاحبه أو يكون مقراً لعمله كمحل للتجارة ومكان ‌للصناعة، فلا زكاة فيه."

(زكاة عروض التجارة، ط: دارالفكر دمشق)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101287
تاریخ20-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں