بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازِ جنازہ کے لیے میت کو زمین پر اور چارپائی پر رکھنے کا حکم

سوال

ہمارے علاقے میں جنازے کے وقت میت کو زمین پر رکھتے  ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا چارپائی پر میت رکھ کر نمازِ جنازہ پڑھنا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نمازِ جنازہ کے لیے میت کا امام کے سامنے قبلہ کی طرف ہونا ضروری ہے، خواہ میت زمین پر رکھی جاۓ یا چار پائی پر، البتہ چارپائی پر رکھنا بہتر ہے۔

رد المحتار میں ہے:

"وشرطها أيضا حضوره (ووضعه) وكونه هو أو أكثره (أمام المصلي) وكونه للقبلة."

وفي حاشيته:

"(قوله ووضعه) أي على الأرض، أو على الأيدي قريبا منها."

(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ج: 2، ص: 208، ط: دار الفكر بيروت)

امداد الفتاوی میں ہے: 

"سوال: کیا فرماتے ہیں علماۓ دین کہ نماز جنازہ چار پائی پر رکھ کر یا زمین پر جنازہ رکھ کر یا کسی شۓ پر سنت ہے؟

جواب: جنازہ کا امام کے روبرو رکھا جانا ضروری ہے خواہ چارپائی پر ہو یا زمین پر۔ لیکن اولیٰ چارپائی پر رکھنا ہے۔"

(کتاب الصلوٰۃ، باب الجنائز، ج: 3، ص: 352، ط: مکتبہ رشیدیہ)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101275
تاریخ19-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں