بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دعا دینے والے کا اپنی دعا پر آمین کہنا

سوال

اگر کوئی شخص کسی کو  دعا دے ، تو ساتھ میں اس کا  خود آمین کہنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ آمین خود ایک دعا ہے، اور اس  کا  معنی ہے : "استجب"، يعنی قبول کر، اور دعا کے آداب میں سے ہے کہ دعا کے بعد آمین کہا جائے اور مختلف احادیث میں اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ دعا کے بعد آمین کہا جائے، اور جو آدمی کسی کو دعا دے تو سننے والے کو آمین كہنا چاہیے، اور خود دعا دینے والے کا آمین كهنا  بھی درست ہے۔

شرح النووی علی مسلم میں ہے:

"وَفِي آمِينَ لُغَتَانِ الْمَدُّ وَالْقَصْرُ وَالْمَدُّ أَفْصَحُ وَالْمِيمُ خَفِيفَةٌ فِيهِمَا ‌وَمَعْنَاهُ ‌اسْتَجِبْ."

(کتاب الصلاة، ج:4، ص:120، ط:دار إحياء التراث)

فيض القدير ميں ہے:

"(إذا دعا أحدكم) لنفسه أو لغيره فليؤمن ندبا على دعاء نفسه فإنه إذا أمن أمنت الملائكة معه فاستجيب الدعاء وفيه خبر أنه سمع رجلا يدعو فقال أوجب إن ختم بآمين فختم الدعاء به يمنعه من الرد والخيبة كما مر وكما يندب أن يؤمن عقب دعائه يندب أن يؤمن على دعاء غيره إن كان الداعي مسلما لحديث الحاكم \" لا يجتمع ملأ فيدعو بعضهم ويؤمن بعضهم إلا أجابهم الله ."

(ج:1، ص:343، ط:المکتبة التجارية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101220
تاریخ19-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں