بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی کے اخراجات کے لیے زکاۃ کی رقم دینا

سوال

زکٰوة کا پیسہ کسی کو شادی میں دینا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں کسی شخص کو شادی کے لیے زکوۃ دینا جائز ہے، بشرطيکہ  جس شخص کوزکوٰة دی جارہی ہو وہ مستحقِ زکاۃ ہو، یعنی اس کے پاس اس کی بنیادی ضرورت  و استعمال ( یعنی رہنے کا مکان، گھریلو برتن، کپڑے وغیرہ)سے زائد،  نصاب کے بقدر  (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی موجودہ قیمت  کے برابر) مال یا سامان موجود نہ ہو  اور وہ سید/ عباسی نہ ہو،تو اسے زکاۃ دیناجائز  ہے ، زکوٰة وصول کرلینےکےبعد اسے  اختیارہےچاہےشادی پرخرچ کرےیادیگرضروریات پر، اس پرپابندی نہیں لگائی جاسکتی۔

قرآن مجید میں ہے:

"{إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ...الخ }."[التوبة: 60]

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع كذا في التبيين."

(كتاب الزكوة، الباب الأول في تفسيرها وصفتها وشرائطها، ج: 1، ص: 170، ط: دار الفکر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101183
تاریخ18-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں