بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے ساتھ جماعت قائم کرنا

سوال

بیوی  کے ساتھ جماعت بنا کے نماز پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

اگر کسی شخص کی کبھی کسی شرعی عذر کی وجہ سے مسجد کی جماعت کی نماز رہ جائے تو آدمی انفراداً نماز پڑھ لے، یا شرعی مسجد کے علاوہ گھر یا کسی بھی جگہ پر  جماعت کر لے۔ اور اگر کوئی  اور نہ ملے تو گھر  میں  اپنی بیوی کے ساتھ بھی جماعت کر سکتا ہے ۔ایسی صورت میں صف بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ مرد خود آگے کھڑا ہوجائے، اور پچھلی صف میں بیوی کھڑی ہو۔ اور مسجد میں جماعت نکلنے کی صورت میں انفرادی نماز پڑھنے کے مقابلہ میں گھر میں جماعت کے ساتھ نماز پڑ ھنا افضل ہے،  لیکن مسجد کی جماعت چھوڑ کر گھر میں جماعت کروانے کی عادت بنا لینا بری بات ہے،اور بہت اجر و ثواب سے محرومی ہے۔

شامی میں ہے:

"ولنا أنه عليه الصلاة والسلام كان خرج ليصلح بين قوم فعاد إلى المسجد وقد صلى أهل المسجد فرجع إلى منزله فجمع أهله وصلى."

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) ،‌‌‌‌كتاب الصلاة،باب الإمامة،(1/ 553)، ط: سعید)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101180
تاریخ18-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں