بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جنازے کو مسجد کے صحن سے گزارنے کا حکم

سوال

ہماری مسجد کی ایک طرف جنازہ کی جگہ مخصوص ہے، لیکن جنازہ مسجد کے صحن سے گزارنا پڑتا ہے، کیا یہ جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جنازہ کی نماز کے لیے جس طرح مسجد سے باہر جگہ کا انتظام کرنا چاہیےاسی طرح جنازے کو جنازہ گاہ لے جانےاور باہر لانے کے لیے راستہ بھی مسجد اور صحنِ مسجد کے بجائے الگ سے ہونا چاہیے، مسجد یا صحنِ مسجد سے جنازہ لے جانے کی صورت میں ایک تو تلویث مسجد  کا اندیشہ رہتا ہے، دوم مسجد یا صحن مسجد کو گزرگاہ بنانا لازم آتا ہے جب کہ مسجد جائے عبادات ذکر واذکارہے، اس لیے اس سے بچنا چاہیے۔

فتح القدير للكمال ابن الهمام میں ہے:

"(قوله ولا يصلى على ميت في مسجد جماعة) في الخلاصة مكروه وسواء كان الميت والقوم في المسجد، أو كان الميت خارج المسجد والقوم في المسجد، أو كان الإمام مع بعض القوم خارج المسجد والقوم الباقون في المسجد، أو الميت في المسجد والإمام والقوم خارج المسجد. هذا في الفتاوى الصغرى. قال: هو المختار خلافا لما أورده النسفي - رحمه الله - اهـ.

وهذا الإطلاق في الكراهة بناء على أن المسجد إنما بني للصلاة المكتوبة وتوابعها من النوافل والذكر وتدريس العلم.وقيل لا يكره إذا كان الميت خارج المسجد، وهو بناء على أن الكراهة لاحتمال تلويث المسجد".

(کتاب الصلوۃ، الصلوہ علی المیت، ج:2، ص:128، ط:دارالکفر)

فتاویٰ شامی (الدر المختار ورد المحتار) میں ہے:

"(كما جاز جعل) الإمام (الطريق مسجدا لا عكسه)

(قوله: لا عكسه) يعني لا يجوز أن يتخذ المسجد طريقا وفيه نوع مدافعة لما تقدم إلا بالنظر للبعض والكل شرنبلالية."

(کتاب الوقف، مطلب في الوقف إذا خرب ولم يمكن عمارته، ج:4، ص:376، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101173
تاریخ18-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں